رقص جاری رہے ۔۔۔ منیر انور
رقص جاری رہے (شعری مجموعہ) منیر انور مثال پبلیکیشنز فیصل آباد 2017 انتساب ۔۔۔ مجھ سے وابستہ تمام معتبر حوالوں کے نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نرم جذبوں کا شاعر منیر انور ۔۔۔ شاعری عطائے رب کریم ہے۔وہ جسے چاہے ودیعت فرما دے۔ فطری شاعر اس کی عطا کردہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی مسلسل ریاضت سے نئے جہان معنی پیدا کرتا ہے۔ شبانہ روز فکری کاوشیں اور خوب سے خوب تر کی جستجو اس کے فن میں نکھار پیدا کرتی ہے۔ شعر میں سوز و گداز، گھلاوٹ اور تاثیر اسی مسلسل مشقت اور دیدہ ریزی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ شاعر کا تخیل اس کی ذات کے امکانات کا عکاس ہوتا ہے۔ اس کی فکری اڑان قاری کو تفہیم کے نئے زاویوں سے روشناس کرواتی ہے۔ فطری شاعر کو بیساکھیوں کی ضرورت نہیں ہوتی، منزلوں تک رسائی کے لیے راستے وہ خود بناتا ہےاور پھر پورے اعتماد سے کہتا ہے۔ میں تو خود راستے بناتا ہوں کیا میں پوچھوں گا راستہ تجھ سے اس شعر کے خالق منیر انور بھی فطری شاعر ہیںاور میری ان سے پرانی یاد اللہ ہے۔ منیر انور کے ادبی سفر کو تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔پہلا دور ادبی سفر ...